Breaking

Saturday, September 8, 2018

Urdu poetry urdu ghazal poetry love poetry sad poetry




مجھے اب کچھ نہیں کہنا ۔۔۔۔۔




سمندر میں اُترنے کا ارادہ اب نہیں با
تمھیں ہر حال میں پانے کا وعدہ اب نہیں باقی

سُنو جاناں !
بچھڑنے کے لیے تم نے بہانہ جو کتابوں سے نکالا ھے
قسم لے لو کہ اِس کا ہر حوالہ ہر کسی کا دیکھا بھالا ھے
تمھیں کہہ تو دیا فُرقت کا گھاؤ اب نہیں سہنا
مجھے اب کچھ نہیں کہنا ۔۔۔۔۔
نا اب وہ خواب ھے نہ خواب کی تعبیر باقی ھے
نا گاؤں کی وہ نٹ کھٹ،شوخ چنچل ہیر باقی ھے
نا رانجھا ھے نہ ونجلی میں کوئی تاثیر باقی ھے
مقدر کی انہی سفٌاک موجوں پر ھے بہنا،
کچھ نہیں کہنا
جو کہنا تھا وہ میں نے کہہ دیا نا،کچھ نہیں کہنا
مجھے اب کچھ نہیں کہنا ۔۔